کرونا اور فتنہ دجال

قَالُوۡا یٰذَاالۡقَرۡنَیۡنِ اِنَّ یَاۡجُوۡجَ وَ مَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَہَلۡ نَجۡعَلُ لَکَ خَرۡجًا عَلٰۤی اَنۡ تَجۡعَلَ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَہُمۡ سَدًّا﴿

انہوں نے کہا اے ذوالقر نین! یاجوج ماجوج اس ملک میں ( بڑے بھاری ) فسادی ہیں تو کیا ہم آپ کے لئے کچھ خرچ کا انتظام کردیں؟ ( اس شرط پر کہ ) آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دیں ۔

(سورہ الکہف 94)

کرونا کی حقیقت

5Gکرونا اور

لاک داون پر ڈاکٹر بھی پریشان

ہ ڈاکٹر بتارہے ہیں کہ ان کا ملا کر 40 سال کا تجربہ ہے.
ان کا کہنا ہے کہ ہمارے جسم کا قوہ دفاع جراسیم سے بنتا ہے

جتنا زیادہ ہم آپس میں ملتے ہیں اتنا ہم آپس میں جراثیم شیر کرتے ہیں اور ہمارا قوہ دفاع بڑھتا ہے.

جب ہم لاک ڈاون میں جائیں گے تو ہمارا قوہ دفاع کم ہوتا جائے گا.

اور جب لاک ڈاون ختم ہوگا تو بیمار ہونے کے زیادہ امکانات ہونگے کیونکہ قوہ دفاع بہت کم ہو گا

کرونا کے ٹیسٹ پر صدور بھی حیران

کرونا ٹیسٹنگ کٹس کا بھانڈا پھوٹ گیا وہ بھی افریقی ملک تنزانیہ میں۔

الجزیرہ نیوز نے خبر دی ہے
‎تنزانیہ میں کرونا کیسز 22 سے اچانک 480 پر پہنچے تو کیمسٹری کی ڈگری رکھنے والے ملک کے صدر جان مغوفولی کو شک گزرا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ انہوں نے ایک عجیب و غریب تجربہ کیا۔
‎انہوں نے ایک بھیڑ، بکری اور پپیتہ ، بٹیر اور انجن آئل سے لئے گئے نمونے ٹیسٹ کے لئے ملک کی مرکزی لیبارٹری بھجوائے۔ بھجوائے گئے نمونوں کو انسانی نام اور مختلف عمریں دی گئیں۔
‎حیران کن طور پر دو جانوروں بکری اور بھیڑ اور ایک پھل پپیتہ کا رزلٹ مثبت ایا۔ اس کے بعد انہوں بیرون ممالک سے درآمد کردہ تمام ٹیسٹنگ کٹس فوج کی تحویل میں دے دیئے ہیں اور انکوائری آرڈر کر دی ہے۔ تنزانیہ کے صدر کا کہنا ہے کہ ضرور کوئی “بڑی گڑبڑ” ہے۔
‎واقعہ کے بعد بین الاقوامی اداروں اور اپوزیشن کی جانب سے تنزانیہ کے صدر کے اس فعل کی مذمت کی جارہی ہے۔حالانکہ بین الاقوامی اداروں اور خود تنزانیہ کی اپوزیشن کو کرونا ٹیسٹنگ کٹس کے معیار اور کام پر سوالات اٹھانے چاہئیں کہ کس طرح ایک بکری۔ بھیڑ اور پپیتے کا کرونا ٹیسٹ مثبت آگیا؟
اب سوال ٹیسٹ کی کوالٹی پر اٹھنا چاہئے یا ٹیسٹنگ کٹس کی کوالٹی پر؟
اب یہ ایک نیا پنڈورا باکس کھل گیا ہے۔۔۔ اب مسلمانوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ سائنس و تحقیق کے میدان سے دور رہ کر ہم نے اپنا کتنا بڑا نقصان کرلیا ہے اور ہم ہر طرح سے مغرب کے محتاج بن چکے ہیں۔ اب کرونا ٹیسٹنگ کٹس پر بھی سوال اٹھ گئے ہیں کہ آیا ان کٹس میں کچھ خرابی ہے یا یہ کٹس ڈیزائن ہی اس طرح کی گئ ہیں کہ ایک مخصوص تعداد میں کرونا ٹیسٹ پازیٹو ظاہر ہو! دوسری طرف مختلف ممالک کی روایتی ھربل ادویات کرونا کے مریضوں کے لئے مفید ثابت ہورہی ہیں لیکن WHO سختی سے ان تمام دعووں کو رد کردیتا ہے کہ اس کے نزدیک صرف وہی دوا اور علاج کارگر ہوگا جس کو ان کی اپنے سائنسدان اور لیبارٹریز تصدیق کر دیں۔
الجزیرہ نیوز کا لنک مندرجہ ذیل ہے۔

https://www.aljazeera.com/news/2020/05/tanzania-president-questions-coronavirus-kits-animal-test-200503174100809.html

افریقہ کے ایک چھوٹے سے ملک Madagascar نے کرونا وائرس کی ایک انتہائی موثر دوا Covid Organics ایجاد کی ہے جسے پینے کے بعد مداغاسکر کے 193 میں سے 120 کے قریب افراد مکمل صحتیاب ہوچکے ہیں۔

جب مداغاسکر کے صدر نے WHO سے کہا کہ ہماری دوا سو فیصد نتائج دے رہی ہے، اسے Approve کرکے پوری دنیا میں پہنچایا جائے تو حیرت انگیز طور پر صیہونی WHO نے آنکھیں پھیرتے ہوئے آئین بائیں شائیں کرنا شروع کردیا اور کہا کہ ویکسین ہی واحد علاج ہے۔

ویکسین سے صیہونی WHO کی مراد وہی Bill Gates کی ویکسین ہے جسکے زریعے یہ پوری دنیا کو نینوچپ (ڈجیٹل سرٹیفکیٹ) نما “Quantum Dot Tattoo” لگانا جاہتے ہیں جس کے اندر ہر انسان کا ڈیٹا محفوط رہے گا اور صیہونی اس ڈیٹا تک کسی بھی وقت رسائی حاصل کرسکیں گے۔

یاد رہے مداغاسکر جزیرہ نما ایک افریقی ملک ہے جسکے چاروں طرف پانی ہے۔ وہاں ایک درخت پایا جاتا ہے جسے ملیریا کی دوا بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ دوا اسی قدرتی درخت سے تیار کی گئی ہے لیکن اقوام متحدہ اس دوا کو چھپا رہا ہے اور ایپروول نہیں دے رہا۔

یہ دوا Covid Organics مداغاسکر کے ایک مقامی سائنسدان نے بنائی ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے دوا کا تجربہ اپنے مقامی مریضوں پر کیا تو 70 فیصد افراد فورا ٹھیک ہوگئے۔ 193 میں سے 120 کے قریب ٹھیک ہوچکے ہیں بقیہ بھی تیزی سے صحتیاب ہورہے ہیں جبکہ ابھی تک مداغاسکر میں ایک بھی موت نہیں ہوئے ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ صیہونی اقوام متحدہ کا ادارہ WHO اس دوا کے زریعے دنیا کو بروقت علاج کیوں نہیں دینا چاہتا ؟

اسکا جواب وہی ہے جو اوپر مذکور ہے کہ صیہونی اپنی آنے والی ویکسین کے علاوہ کرونا کے کسی بھی دوسرے طریقہ علاج کو کبھی ایپرو نہیں کریں گے۔ چاہے پاکستان ویسکین بنالے یا چین، یہ ایپرو صرف اپنی ویکسین کو دیں گے اور اسی ویکسین کو پوری دنیا کو لگانا چاہیں گے کیونکہ انکا ایجنڈہ اپنی ویکسین سے نینو چپ لگانا ہے جو کہ دوسرے طریقہ علاج سے ممکن نہیں ہوسکے گا۔

مداغاسکر میں کامیاب علاج دیکھتے ہی خطہ افریقہ کے بہت سے ممالک نے WHO پر تھوکتے ہوئے مداغاسکر سے یہ دوا منگوالی ہے۔ بہت سے افریقی ممالک دوا لیکر اپنے مریضوں کو پلا بھی چکے ہیں جسکے نتائج بھی زبردست آرہے ہیں۔

یاد رہے پچھلے کالم میں آپکو “تنزانیہ کے صدر” ماگوفولی کا انکشاف سنایا تھا کہ جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ کرونا کٹس جعلی ہیں اور پہلے سے ہی وائرس زندہ ہیں۔ اب تنزانیہ نے بھی کرونا کٹس اور اقوام متحدہ پر لعنت بھیجتے ہوئے اپنے پڑوسی ملک مداغاسکر سے کروانا کی یہی دوا Covid Organics منگوالی ہے۔

پاکستان اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھا رہا ۔ ۔ ۔ ؟

ہماری حکومت پاکستان سے درخواست ہے کہ اگر پلازمہ کم مل رہا ہے تو فورا مداغاسکر سے رابطہ کریں اور Covid Organics دوا منگواکر اسکا تجربہ کرکے دیکھ لیں، اگر فائدہ ثابت ہو تو WHO پر لعنت بھیج کر اس قدرتی دوا کے استعمال سے پاکستان کو کرونا سے جلد از جلد پاک کریں۔ بل گیٹس کی ویکسین آنے میں تو 18 ماہ لگیں گے تو کیا پاکستان ڈیڈھ سال ایسے ہی لاک ڈاؤن اور کرونا مصیبت میں گزارے گا؟ ہرگز نہیں۔

اگر ہمارے پاس مقامی علاج موجود نہیں ہے تو افریقی ملک مداغاسکر سے دوا منگوانے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔ یہ کام فورا کیا جائے۔

میرا کام تھا حکومت کو متبادل ارجنٹ علاج سے آگاہ کرنا، اب دیکھنا ہے کہ عمران حکومت اس تجویز پر عمل کرتی ہے یا اندھی بہری اور گونگی بن کر صرف صیہونی WHO اور الیومیناٹی کے لیے کام کرنے والے Bill Gates کی ویکسین کے آسرے بیٹھ کر پاکستان کا دیوالیہ نکالتی ہے۔

Source :
https://www.aa.com.tr/en/africa/madagascar-slams-who-for-not-endorsing-its-herbal-cure/1836905

کرونا اور میڈیا کا کردار

کرونا اور ھدف علماء اور مساجد

کرونا اور بڑھھتی بدحال معشت

کرونا پر پیسوں کا کھیل؟

جھوٹی وباء

کرونا کے پیچھے سازش

دنیا کی سب سے بڑی سازش بے نقاب
یہ منصوبہ اسرائیل میں تیار کیا گیا جس میں امریکا، برطانیہ اور بھارت کے بڑے سازشی دماغ شریک ہوئے۔ (بعض سعودی ذرائع کے مطابق ان میں ایرانی خفیہ حکام اور قادیانیوں کے نمائندے بھی شامل تھے) روس اور چین کو شامل نہیں کیا گیا کیونکہ ان کے بعض مسلمان ملکوں سے قریبی تعلقات ہیں۔ اور یہ سازش تو ہے ہی مسلمانوں کے خلاف۔
منصوبے کے بلو پرنٹ کے مطابق پوری دنیا کا میڈیا چونکہ یہودیوں کے قبضے میں ہے، اس لیے اسے ایک جھوٹ موٹ کے وائرس کا پروپیگنڈا کرنے کی ذمے داری دی گئی۔ امریکا یا اسرائیل پر کوئی شک نہ کرے، اس لیے اس کا آغاز چین سے کیا گیا۔
چین کی مرکزی حکومت کو اس معاملے سے بے خبر رکھتے ہوئے ووہان کی مقامی انتظامیہ کو کروڑوں ڈالر دے کر خریدا گیا جبکہ اسپتالوں کے ڈاکٹروں کو بھی بھاری رشوت دی گئی۔ انھوں نے شور مچایا کہ ان کے شہر میں ایک وائرس پھیل گیا ہے جو ہلاکت خیز ہے۔
چین کی بھولی بھالی مرکزی حکومت اسے حقیقت سمجھی اور لاک ڈاؤن لگادیا۔ اب نہ کوئی شہر میں آسکتا تھا اور نہ جاسکتا تھا۔ ووہان کے ڈاکٹروں نے ہر بیماری کے مریض کو مار کے کہنا شروع کردیا کہ سیکڑوں مرگئے، ہزاروں مرگئے۔ حد یہ کہ معمولی نزلہ زکام کے مریضوں کو بھی زبردستی وینٹی لیٹر لگاکر مارا گیا۔
چین کے دوسرے شہروں میں بھی یہودیوں کے ایجنٹ ڈاکٹروں نے یہی کہہ کر کافی لوگوں کی جان لے لی۔ اسی کے ساتھ یورپ اور امریکہ کے میڈیا نے جھوٹی خبریں دینا شروع کردیں کہ چین سے آنے والوں نے ان کے ملکوں میں وائرس پھیلا دیا ہے۔
اتنی دیر میں چین کی انٹیلی جنس نے حقیقت کا سراغ لگالیا اور ووہان کی انتظامیہ اور اسپتالوں کی کالی بھیڑوں کو گرفتار کرلیا۔ ان سب کو سزائے موت دے دی گئی اور شہر کھول دیا گیا۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس کے بعد سے چین میں نہ کوئی مریض سامنے آرہا ہے اور نہ کوئی شخص مر رہا ہے۔
لیکن مغرب کو جو موقع چاہیے تھا، وہ مل چکا تھا۔ امریکا اور یورپ کے ملکوں نے لاک ڈاؤن کردیا اور روزانہ بڑھا چڑھا کر مریضوں اور اموات کا ڈیٹا دینا شروع کردیا۔ اب لاک ڈاؤن ہے تو بھلا کون اسپتال جاکر دیکھے کہ کوئی بیمار آ بھی رہا ہے یا نہیں؟ کوئی مر بھی رہا ہے یا نہیں؟
ہم سب جانتے ہیں کہ پوری دنیا کے کاروبار پر ہنود و یہود کا قبضہ ہے۔ دنیا کے سارے ارب پتی کون ہیں؟ بل گیٹس جیسے یہودی ہیں یا انیل امبانی جیسے ہندو ہیں۔ فیس بک کا مالک بھی یہودی ہے۔ یہ سب خوب پروپیگنڈا کررہے ہیں۔ قادیانی قدم قدم پر ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔
تمام ائیرلائنز کو اربوں ڈالر دے کر خاموش کروایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ تمھارا نقصان پورا کردیں گے، بس پروازیں بند کردو۔ امریکا اور یورپ کے دفاتر اور کاروباری مراکز بند ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ وہاں حکومتیں اپنے عوام کو گھر بیٹھے تنخواہیں دے رہی ہیں، کیوں؟ کیونکہ انھیں یہودی اربوں ڈالر دے رہے ہیں۔
متاثر کون ہورہے ہیں؟ جنوبی امریکا اور افریقا کے غریب ملک اور مسلمان۔ عمران خان کو شک ہوگیا ہے اسی لیے وہ بار بار مغربی ملکوں سے کہہ رہے ہیں کہ غریب ملکوں کے قرضے معاف کرو۔ مغربی ممالک اور آئی ایم ایف مخلص ہوتے اور واقعی کوئی وبا آئی ہوتی تو قرضے معاف کیے جاچکے ہوتے۔ لیکن وہ کبھی ایسا نہیں کریں گے کیونکہ یہی تو اصل سازش ہے۔
روس پہلے اس سازش میں شریک نہیں تھا۔ اس کے ملک سے کسی مریض یا موت کا ذکر نہیں آرہا تھا۔ لیکن پھر پیوٹن کو اعتماد میں لیا گیا۔ اس کے لیے چیچنیا کے نوجوان مصیبت بنے ہوئے ہیں۔ اسے جب معلوم ہوا کہ سازش کا نتیجہ کیا نکلے گا تو وہ بھی مان گیا۔ اب آپ خود دیکھیں، روزانہ روس میں ہزاروں لوگوں کے مرنے کی جھوٹی خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں۔
پاکستان کا میڈیا بھی اس سازش میں شریک ہے۔ اسی لیے یہودیوں کے ایجنٹ میر شکیل الرحمان کو نیب نے پکڑا ہوا ہے کیونکہ آئی ایس آئی کو اندر کی بات معلوم ہوگئی ہے۔ لیکن یہ کھیل اتنا بڑا ہے کہ مالک کی گرفتاری کے باوجود جیو اور دوسرے چینل مسلسل پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ پاکستان میں اتنے لوگ بیمار ہوگئے، اتنے لوگ مر گئے۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جو ہمیشہ غیر ملکی طاقتوں کی آلہ کار رہی ہے۔ اسی لیے اس نے سب سے پہلے لاک ڈاؤن کیا اور وزیراعلیٰ نے یہودیوں کی زبان میں عوام کو ڈرایا دھمکایا۔ پاکستان کی بے بس

حکومت سب کھیل دیکھ رہی ہے اور مجبور ہے۔
اب تک پورے ملک میں بلکہ پوری دنیا میں ایک بھی شخص ایسا نہیں جو قسم کھاکر کہہ سکے کہ اس نے کرونا وائرس کا کوئی مریض دیکھا ہے یا کوئی اس سے مرا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا ہو تو پتا چلے۔ یہ سب جھوٹ ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ امریکا اور یورپ کے ڈاکٹر بار بار کہہ رہے ہیں کہ کرونا وائرس کا کوئی علاج نہیں۔ ایسا اس لیے کہہ رہے ہیں کہ وائرس ہے ہی نہیں۔ ہوتا تو اس کا علاج کیا جاتا۔
اسی طرح اب جعلی خبریں آرہی ہیں کہ امریکا اور یورپ میں ویکسین بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ کیا آپ نے سنا کہ چین سے ایسی کوئی خبر آئی ہو؟ چین دنیا کی ہر چیز بناتا ہے، پھر ویکسین کیوں نہیں بنارہا؟ اس لیے کہ وائرس ہو تو اس کی ویکسین بنائی جائے۔ چین کو تو حقیقت معلوم ہوچکی ہے۔
اب اصل میں ہوگا یہ کہ امریکا اعلان کرے گا کہ اس نے ویکسین بنالی ہے۔ اس کا خوب پروپیگنڈا ہوگا۔ کسی یہودی ڈاکٹر کو اس جعلی کارنامے پر نوبیل انعام بھی دیا جائے گا۔ پھر ویکسین کے نام پر ایک دوا پوری دنیا میں پھیلائی جائے گی۔
یورپ اور امریکا میں یہ دوا مردانہ طاقت میں اضافے کی ہوگی۔ لیکن ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکا کو جو دوا فراہم کی جائے گی، اسے پینے والے کمزور ہوجائیں گے۔ وہ بچے پیدا کرنے سے معذور ہوجائیں گے۔ اگر اولاد ہوگی بھی تو وہ جسمانی طور پر کمزور ہوگی۔ یعنی یہ نسل نہیں تو اگلی نسل ضرور بانجھ ہوگی۔
یورپ اور امریکا کینیڈا میں مقیم مسلمانوں کو بھی وہی دوا دی جائے گی جس سے ان کی تعداد کم ہو۔ کیا یہ کوئی راز ہے کہ امریکا اور یورپ مسلمان پناہ گزینوں سے تنگ آچکے ہیں اور ان سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔
اس سے پہلے بھی ہنود و یہود اور قادیانیوں کے ایما پر امریکا، یورپ اور اقوام متحدہ کئی بار مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کے حربے آزما چکے ہیں۔ قادیانیوں کی کمپنی شیزان کی مصنوعات میں دوائیں ملائی گئیں لیکن مسلمانوں نے انھیں خریدنا چھوڑ دیا۔ پھر آیوڈین ملا نمک پھیلا گیا لیکن خوش قسمتی سے اس کا مسلمانوں پر اثر نہیں ہوا۔ پھر پولیو ویکسین میں نسل کشی کے قطرے ملائے گئے لیکن اس کا پول بھی کھل گیا۔
ہر طرف سے مایوس ہوکر عالمی طاقتوں نے اس بڑے کھیل کا آغاز کیا ہے۔ لیکن ہم راسخ العقیدہ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ ہنود و یہود و قنود کا کوئی منصوبہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔
اور ایسی طرح ہمارے پاکستان میں سب بک چکے ہیں
ابھی کچھ دن پہلے اکرم نام کے بندے کے ساتھ واقعہ پیش آیا اس کو بھی مار دیا گیا اس کے گھر والوں کا کہنا تھا وہ ایک سال سے شوگر کا مریض تھا شوگر زیادہ ہونے کی وجہ سے بے ہوش ہو جاتا تھا مرحوم کے مرنے سے ایک دن پہلے شوگر زیادہ ہوگیا تھا اور سانس لینا مشکل ہوگیا تھا مریض کو انڈس ہسپتال لے کے آئے اور انہوں نے اسکو چیک کر کے جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا
ہسپتال منتقل ہونے کے بعد ایک دن وارڈ میں ہو گیا اور مرحوم کی تکلیف بھی ختم ہو گئی رات کو 4 بجے ایک ایمبولینس آتی ہے مرحوم کا ایک بیٹا نیچے ہی تھا اس نے ایمبولینس کے ڈرائیور سے پوچا کہ آپ لوگ کرونا ٹیم کے ہو اور یہاں کیسے آئے ہو تو ڈرائیور کا کہنا تھا کہ ہم وارڈ نمبر 23 سے ڈیڈ بوڈی لینے آئے ہیں تو ان سے ڈیڈ بوڈی کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ کرونا کا مریض فوت ہوگیا ہے اسکا نام اکرم ہے اس کی ڈیڈ بوڈی لینے آئے ہیں تو مرحوم کے بیٹے نے کہا میرا والد تو زندہ ہے اور وہ چل پھر بھی رہا اور باتیں بھی کر رہا ہے وہ تو زندہ ہے ڈرائیور کہنے لگا ہمیں جو آرڈر ملا ہے ہم وہ فالو کر رہے ہیں
اس کے بعد 5:30 پہ مرحوم کا بیٹا کسی کام سے وارڈ سے نیچے آتا ہے اور 15 منٹ کے بعد دوبارہ وارڈ میں جاتا ہے تو سامنے سے ڈاکٹر آتا دکھائی دیا تو ڈاکٹر قریب آیا اور مجھے بتایا آپ کا والد فوت ہو گیا ہے , بیٹا
مجھے بہت حیرت ہوئی کہ ڈرائیور اور ایمبولینس کو فوت ہونے سے 2 گھنٹے پہلے کیسے پتا چلا کہ اس مریض کی ڈیتھ ہو جائے گی اور اسکی ڈیڈ بوڈی لینے کے لئے 2 گھنٹے پہلے ہی پہنچ گئے شاید ہو سکتا ہے ملک الموت نے انکو پہلے سے بتا دیا ہو کہ یہ بندہ مر جاے گا تم لوگ 2 گھنٹے پہلے ایمبولینس لے کے پہنچ جاؤ 🤔
مرحوم کے گھر والوں کا کہنا ہے ہمارے بندے کو مارا گیا ہے. بیٹا
اسی طرح اور لوگ جن کے رشتہ داروں کے مریض مر گئے ہیں سب کی داستان ایک جیسی ہے اور لاشوں پہ سیاست ہو رہی ہے اور لاشوں کو بیچا جا رہا ہے زرائع کے مطابق ایک لاکھ سے تیس لاکھ تک ایک ڈیڈ بوڈی بیچی جا رہی ہیں اور یہ بھی ایک عالمی سازش ہے
کیونکہ شک و شبہات اور مشقوق حرکتوں سے پتا چلتا ہے کہ کوئی خفیہ سازش ہو رہی ہے
کرونا وائرس سے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ڈرایا جا رہا ہے اور اگر یہ حقیقت ہوتی اور یہ پھیلنے والی وبا ہوتی تو جس طرح کی بے احتیاطی ہو رہی ہے اس تو یہ وبا بہت زیادہ پھیل جاتی اور اموات بہت زیادہ سے زیادہ ہوتی.
ہماری حکومت اور سپریم کورٹ سے استدعا ہے اس پہ تحقیقات کروائی جائیں جو لوگ کرونا وبا کی وجہ سے فوت ہو گئے ہیں انکا پوسٹ مارٹم کروایا جاے
محمد الیاس آرائیں
اور انکے گھر والوں سے پوچھا جائے انکو پہلے سے کیا بیماری تھی ابھی تک کوئی بھی کرونا کا مریض اپنے گھر پہ نہیں مرا
جو بھی مر رہے ہیں وہ ہسپتال میں مر رہے ہیں اور ہر مرنے والے کی کہانی اسی طرح ہے جیسے اکرم کی ڈیتھ ہوئی ہے
کچھ زرائع سے پتا چلا ہے اب تک جو بھی ڈاکٹر کرونا کی وجہ سے فوت ہوئے ہیں وہ اس سسٹم سے باغی ہو گئے تھے تو انکو ٹھکانے لگا دیا گیا تانکہ پردہ فاش نہ ہو جائے میری اس تحقیقات سے ہو سکتا ہے وہ مجھ پہ بھی اٹیک کرے اور اس راز کو فاش کرنے کے جرم میں مجھے الیاس آرائیں کو مارا بھی جا سکتا ہے
میری زندہ ضمیر اپنے اداروں سے التماس ہے وہ خود بھی تحقیقات کریں اور اس وبا کی اصلیت کو سامنے لایا جائے
یہ تھی کرونا کی اصلیت
اور اگر لائیو کرونا وائرس پہ تحقیقات کرنی ہے تو اس کے لئے میں حاضر ہوں کرونا کے مریض کے ساتھ 14 دن رہوں گا کیمرہ کی نظر کے سامنے اور میرے پاس کوئی ڈاکٹر نہ آئے تو دیکھ لینا کچھ نہیں ہوگا نہ ہی کرونا کا مریض مرے گا اور نہ ہی میں مروں گا کرونا کی وجہ سے. ْ
اس ثابت ہو جائے گا کہ کرونا کچھ بھی نہیں ہے
میری آپ لوگوں سے التماس ہے اس پوسٹ کو شئیر کریں تانکہ سب کو عالمی سازشوں کا پتا چل جائے یہ ایک عالمی سازش ہے جو کہ صرف اور صرف مسلمانوں کے خلاف ہے اور یہودی اسکی ویکسین بنا کہ مسلمانوں کے خلاف استعمال کریں گے اور ہر ایک پہ لازم ہوگا وہ کرونا کا ٹیسٹ کروائیں اور وہ ویکسین کروائیں جو مسلمانوں کے خلاف بنائی جائے گی

کرونا کے بعد کی دنیا

موجودہ دنیا میں نظریات اور سوچ کے ساتھ ساتھ باقی سب کچھ بھی 9/11 کے بعد تبدیل ہونا شروع ہوا۔اور اب کرونا وائرس کے بعد والی دنیا موجودہ دنیا سے بالکل مختلف ہو گی۔کرونا وائرس کے ذریعے ہمیں ایک نئے دور میں دھکیل دیا جائے گا۔یہ دنیا کیسی ہو گی آیئے دیکھتے ہیں۔

1۔لوگوں کو کنٹرول میں رکھنے اور باہر نکلنے سے روکنے کیلیے قرنطینہ میں رکھا جانا۔
2۔5G ٹیکنالوجی کی آمد۔
3۔معاشی تباہی۔
4۔انسانوں کی سرویلینس یعنی نظر رکھنا۔
5۔جبری ویکسینیشن۔
6۔ڈیجیٹل کرنسی کا آغاز۔
8۔RFID چپ لازمی شرط۔
9۔خوف کے زیر اثر لوگوں کے رویے کو جانچنا۔

ان میں سے کچھ مقاصد حاصل کر لیے جائیں گے باقی آنے والے چند سال میں بہت جلد حاصل کیے جائیں گے۔
لوگوں کو آفات کے وقت گھروں اور کیمپوں میں بند رکھا جائے گا۔

اس وائرس کی وجہ سے کرنسی نوٹ ختم کیے جائیں گے تاکہ وائرس نہ پھیل سکے۔نہ چاہتے ہوئے بھی حکومتیں مجبور ہونگی۔

یہ سب کیسے ممکن ہوگا؟
اسکو کامیاب کرنے کیلیے 5G ٹیکنالوجی ضروری ہے جو انتہائی تیز رفتار ہے۔اسکے بغیر یہ ممکن نہیں۔اسلیئے اسکو اسکے نقصانات کے باوجود لایا جائے گا۔

اگر یہ وائرس زیادہ دیر چلتا ہے تو دنیا کی معیشت کا بیڑہ غرق ہو جائے گا اور ایک نئے معاشی نظام کی ضرورت ہو گی۔
5G
کے ساتھ انسانوں کی سرویلنس کی جائے گی۔یعنی ہر انسان پہ نظر رکھی جائے گی۔
لوگوں کو زبردستی ویکسین دی جائے گی جو مزید بیماریاں لائے گی اور دوائیوں کا کاروبار مزید پھیلے گا۔

کرنسی نوٹوں سے یہ وائرس پھیلتا ہے تو لازمی طور پہ انکو ختم کرنا پڑے گا۔اسکے لیے ڈیجیٹل کرنسی لانچ کی جائے گی۔یعنی آپ اپنے پیسوں کے مالک تو رہیں گے لیکن اپنی جیب میں نہیں رکھ سکیں گے۔اس طرح حکومتوں کیلیے آپکو کنٹرول کرنا اور بھی آسان ہوگا جب چاہیں آپکو آپکے پیسوں سے محروم کر دیں۔

سب سے خوفناک بات کہ مائکروچپ لگوانی لازمی قرار دی جائے گی جسکے بغیر آپ کوئی خریداری نہیں کر سکیں گے۔یاد رہے یہ چپ ہی آپکا سب کچھ ہو گی لیکن یہ صرف چپ ہی نہیں ہے۔اسکے ذریعے آپکا دماغ کنٹرول کیا جائے گا۔
خوف کے انڈر لوگ کیسے رویہ اپناتے ہیں اس لحاظ سے قوانین بنائے جائیں گے۔

یہ دور جو بس آیا ہی چاہتا ہے اس قدر بھیانک ہے کہ انسان کی سوچ بھی وہاں تک نہیں جاتی۔انسان کو انسان کی غلامی میں دینے اور پھر دجال کی غلامی اور دجال کے ذریعے شیطان کی غلامی میں دھکیل دینے کا پورا پورا انتظام۔

یہ وائرس تو ختم ہو ہی جائے گا لیکن اسکے بعد جو قوانین بنیں گے وہ غلامی کا ایک تاریک دور ہو گا۔شاید اس حدیث کے پورا ہونے کا وقت آیا چاہتا ہے جب مسلمان قبر کو دیکھ کر کہے گا کاش میں اسکی جگہ قبر میں ہوتا۔

حدیث میں ہے کہ مسلمانوں پہ بھی ضرور پہلی امتوں جیسے حالات پیش آئیں گے۔اب جو پچھلی امتوں پہ حالات آئے ان سے ہم سب واقف ہیں۔یہ ہو کر رہے گا۔حدیث کا پورا ہونا لازم ہے

خوف کی سزا

عزاب کے وجوھات

خدا نراض کر بیٹھے

اللھم انی اعوذ بک من فتنہ المسیح الدجال

واللہ عالم باالصواب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *